Skip to main content

Posts

Showing posts with the label Articles

KHADIM RAZWI COMMENTS ON DHARNA

KHADIM RAZWI COMMENTS ON DHARNA     لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور میں تحریک لبیک کے ایک دھڑے کی جانب سے دھرنا ختم نہ کرنے اور ڈاکٹراشرف آصف جلالی کے الزامات کے بعد علامہ خادم حسین رضوی نے بھی جواب دیدیا ہے اور کہاہے کہ کوئی ان سے پوچھے کہ ان کے مقاصد کیا ہیں، ہماری ، تحریک کا نام تحریک لبیک یا رسول اللہ ہے، اسی کا سیاسی ونگ تحریک لبیک پاکستان بنایاہے ۔ دنیا نیوز کے پروگرام ’دنیا کامران خان ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے خادم حسین نے کہاکہ دھرنا پرامن تھا ، نہ جنگ ہوئی اور نہ ہی کوئی قتل و غارت ہوئی ۔ دوسروں کی ملانے کی بات کرنے اور اپنی ہی تحریک لبیک یارسول اللہ کو نہ جوڑپانے ، لاہور میں بدستور دھرنا جاری ہونے سے متعلق سوال کے جواب میں علامہ خادم حسین نے کہاکہ ”یہ ان سے پوچھا جاسکتاہے کہ ان کے کیا مقاصد ہیں، ہم تو جس کام کیلئے گئے تھے ، سب کو پتہ ہے“۔  معاہدہ کرکے زریں اصولوں کو توڑنے اور ڈاکٹر اشرف جلالی کے تحریک لبیک کے چیئرمین ہونے سے متعلق دعووں کے سوال پر علامہ خادم حسین نے ب تایاکہ ”ٹھیک ہے ، ہماری تحریک کا نام تحریک لبیک یا رسول اللہ ہے، اسی کا سیاسی ونگ تحریک لبیک...

OPERATION WILL BE INITIATED SOON AGAINST THE DHARNA AT FAIZABAD

اسلام آباد میں آپریشن کا حکم جاری، پولیس اور ایف سی الرٹ ہو گئے۔۔کن ہتھیاروں سے حملہ ہو گا؟؟حتمی اعلان اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی درالحکومت کو یرغما ل بنانے والی اور جڑواں شہر کے شہریوں کو اٹھارہ روز تک اذیت اور تکلیف سے دوچارکرنےوالے دھرنے کے شرکاء کے ساتھ حکومت نے ہر ممکن مذاکرات کرنے کی کوشش کی لیکن ایک بھی کوشش کامیاب نہ ہوا اور اب حکومت نے ا ن کےخلاف اپریشن کا فیصلہ کیا ہے ۔ حکومت نے رات بارہ بجے تک ان دھرنا شرکاء کو ڈیڈلائن دی ہے ورنہ صبح صبح اپریشن شروع کی جائے گی ۔ وفاقی حکومت نے فیض آباد دھرنا ختم کروانے کےلئے آپریشن کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے دھرنا ختم کرانے کےلئے حتمی آپریشن کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس بارے میں پولیس اور سکیورٹی اداروں کو گرین سگنل دےد یا گیا ہے۔ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے فیصلوں کے بعد حکومت پر خاصا دبائو تھا کیونکہ جڑواں شہروںٹیموں کی تشکیل کا کام بھی مکمل کر لیا گیا ہے کے یومیہ آٹھ لاکھ راہگیروں کو گزرگاہ کو تحریک لبیک نے بند کررکھا تھا ۔ آپریشن صبح شروع کر دیا جائے گا۔ اسلام آباد اور...

D.I.KHAN VICTIMS AND ALI AMEEN GANDPOOR INFLUENCE ON IT

ڈی آئی خان (ڈیلی پاکستان آن لائن) ڈیرہ اسماعیل خان میں با اثر افراد کے ہاتھوں انسانیت سوز سلوک کا نشانہ بننے والی لڑکی نے پہلی بار براہ راست میڈیا پر آکر خود کے ساتھ پیش آنے والا سارا واقعہ بیان کردیا ہے۔ متاثرہ لڑکی نے صوبائی وزیر مال خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور پر ملزمان کی پشت پناہی کا الزام بھی لگایا ہے۔ نجی ٹی وی اے آروائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے متاثرہ لڑکی نے بتایا کہ وہ تالاب سے پانی بھر کر واپس گھر جا رہی تھی کہ اسی دوران جب وہ ثناءاللہ کے گھر کے پاس پہنچی تو سجاول (مرکزی ملزم) اپنے ساتھیوں سمیت پیچھے سے نمودار ہوا اور آتے ہی اسے دھکا دے کر نیچے گرادیا جس کے بعد ملزمان نے اس پر حملہ کردیا، انہوں نے قینچیوں کی مدد سے لڑکی کے کپڑے تار تار کردیے۔ ’اس دوران میری ایک کزن نے مجھے جسم چھپانے کیلئے اپنا دوپٹہ دیا تو انہوں نے وہ بھی کھینچ لیا جس کے بعد میں بھاگی اور ایک گھر میں گھس کر چارپائی پکڑ لی، لیکن وہ میرے پیچھے ہی گھر میں آگئے اور مجھے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے گلی میں لے آئے جس کے بعد وہ مجھے گلیوں میں گھماتے رہے۔ پھر انہوں نے مجھے ایک کار میں ڈا...

ADLIA KO 21 TOPON KE SALAMI

عدلیہ کے حوصلے کو 21توپوں کی سلامی-محمد بلال غوری   عدالتی اختیارات کا غلط استعمال تب ہوتا ہے جب جج قا نون کے بجائے اپنے سیاسی خیالات پر عمل کرنے لگتے ہیں۔امریکی قانون دان لامار ایس سمتھ چلی لاطینی امریکہ کا ملک ہے جس نے اسپین سے آزادی حاصل کی۔1970میں انتخابات ہوئے تو سوشلسٹ پارٹی کے سربراہ سینیٹر سلواڈور آلندے نے کامیابی حاصل کی۔اقتدار میں آتے ہی سلواڈور کے خلاف سازشوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ا مریکی صدر نکسن کی اجازت سے سی آئی اے نے چلی کی منتخب حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لیئے ایک خفیہ آپریشن کا آغاز کیا جس کے تحت اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے احتجاجی مہم شروع کروائی گئی۔جلسے ،جلوسوں اور ہڑتالوں کا سلسلہ بڑھتا چلا گیا۔سی آئی اے کی منصوبہ بندی رنگ لائی اور سول حکومت کے خلاف چلی کی فوج اور عدلیہ نے گٹھ جوڑ کر لیا۔اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان نے سیاستدانوں سے متعلق تضحیک آمیز ریمارکس دینا شروع کر دیئے ،فوج نے میڈیا کے ذریعے حکومت کے خلاف پراپیگنڈا کیا اور یوں بے چینی بڑھتی چلی گئی۔11ستمبر1973ء کو چلی کی فوج نے اپنے ملک کے آئین کو بوٹوں تلے روند ڈالا اور منتخب حک...

WEST INDIANS CRICKET TEAM WILL VISIT PAKISTAN IN 2018

ویسٹ انڈیز نے اگلے سال پاکستان آنے کی تصدیق کر دی  نجم سیٹھی لاہور :سموک اور دوسرے حالات کی وجہ سے اس سال ویسٹ انڈیز کے کھلاڑی تو آنہ سکے لیکں آئندہ سال پاکستان میں کھیلنے کی حامی بھر لی ہے ،قذافی سٹیڈیم میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی نے کہاہے کہ ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ نے اگلے سال پاکستان آنے کی تصدیق کر دی ہے ۔ قذافی سٹیڈیم میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نجم سیٹھی کا کہناتھا کہ ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ مارچ میں پاکستان میں تین ٹی ٹوینٹی میچزکھیلے گا ،ٹی ٹوینٹی میچز 29،31مارچ اور یکم اپریل کو لاہور میں کھیلے جائیں گے ۔واضح رہے کہ اسی مہینے نومبر میں ویسٹ انڈیز نے پاکستان کادورہ کرنا تھا تاہم وہ ملتوی کر کے آئندہ سال مارچ میں کر دیا گیاہے ۔ذرائع کا کہناہے کہ ویسٹ انڈیز کا دورہ پنجاب بھر میں سموگ کے باعث ملتوی کیا گیاہے جبکہ ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ پاکستان میں سیکیورٹی صورتحال سے مکمل طور پر مطمئن ہے ۔

AGAR TESRI JANG-E- AZEEM HOTI TO

اسلام آباد (سپشل رپورٹ ڈیلی اوصاف ویب ٹیم )دنیا میں اگر تیسری جنگ عظیم شروع ہو تی ہے تو ان میں دس ممالک ایسے جو تیسری جنگ عظیم کے آثار سے محفوظ رہیں گے ۔یہ ممالک نہ صرف محفوظ رہیں گے بلکہ جنگ کے اثرات سے بھی محفوظ رہیں گے ۔ تفصیلات کے مطابق ان ممالک میں پہلے نمبر ’’فجی ‘‘ ہے ، بحرالکائل پر واقع یہ دور افتادہ جزیرہ ہے جو کہ بالکل امن پسند ہے فجی ہزاروں سال سے انسانی آباد کاریوں کا مرکز رہا ہے ۔ یہ جزیرہ اپنا اناج خود پید ا کر تا ہے ۔ اسی وجہ سے اگر دنیا میں جنگ عظیم سوئم ہوتی ہے تو یقیناً ’’فجی ایک محفوظ مقام ثابت ہو گا ۔ دوسرے نمبر پر’’ آئرلینڈ‘‘، یہ ایک امن پسند ملک ہے اور یہ نیٹو کا ممبر بھی ہے ۔ یہ جنگ عظیم سوئم ہونے کی صورت میں یہ بھی محفوظ ملک سمجھا جاتا ہے ۔ اس لسٹ میں تیسرے نمبر پر’’ مالٹا‘‘ آتا ہے جو کہ ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے ۔ اور یہ یورپ میں واقع ہے ۔ جنگ عظیم دوئم میں بھی مالٹا ایک محفوظ مقام تھا ، اسی لیے اس جزیرے کو تسخیر کرنا آسان نہیں۔ یہ اتنا چھوٹا جزیرہ ہے کہ اگر اس پر ایٹم بم چلایا جائے تو وہ ایٹم بم ضائع کرنے کے مترادف ہو گا ۔جنگ عظیم سوئم کی ص...

TABAHI KA SAY BACHAO KA RASTA - SALEEM SAFI

تباہی سے بچاؤ کا راستہ سوچ سوچ کر تھک گیا لیکن پاکستان کی موجودہ افغان پالیسی کی منطق کو نہ سمجھ سکا۔ اگر تو اس کا مقصد یہ تھا کہ افغانستان کے اندر ہندوستان کے اثرورسوخ کو روکا جائے تو الٹاوہ تو دن بدن بڑھتا گیا ۔ 1980کے مقابلے میں آج افغانستان میں ہندوستان کا اثرورسوخ کئی گنا بڑھ گیا ہے ۔ اگر تو مقصد یہ تھا کہ افغانستان کو زیردست یا دوست رکھا جائے تو یہ مقصد بھی حاصل نہ ہوسکا۔ ستر کی دہائی کے مقابلے میں آج افغانستان کئی گنا زیادہ مشتعل اور پاکستان مخالف ہے ۔ پاکستان کا اثرورسوخ روز بروز کم ہورہا ہے اور موجودہ پالیسی کے نتیجے میں پاکستان مخالف جذبات اس قدر بڑھ گئے کہ اب گلبدین حکمت یار جیسے لوگ بھی پاکستان کے حق میں لب کشائی نہیں کرسکتے۔ اگر تو مقصد یہ تھا کہ یقینی بنایا جائے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو تو یہ مقصد حاصل ہوا اورنہ موجودہ پالیسی کے ساتھ حاصل ہوتا نظر آرہا ہے ۔ سترکے مقابلے میں آج افغان سرزمین پاکستان کے خلاف کئی گنا زیادہ استعمال ہورہی ہے ۔ جب کوئی بھی مقصد حاصل نہیں ہوا اور نہ ہوتا ہوا نظر آرہا ہے تو پھر اس پالیسی پر اصرار کا کیا جواز ؟ ۔ ...

AB PORAY SHARIF FAMILY KO NISHAN-E-EBRAT BANANAY KE MANSOBA BANDI

 اب پورے شریف خاندان کو نشان عبرت بنانے کی منصوبہ بندی ایک جاندار مقابلے کے ذریعے لاہور سے بیگم کلثوم نواز صاحبہ کی سے جیت کے بعد شہباز شریف صاحب کو بالآخر تسلیم کر لینا چاہئے کہ نون کے لاحقے کے ساتھ قائم ہوئی پاکستان مسلم لیگ کا روایتی حامی اپنا ووٹ صرف نواز شریف کو دیتا ہے۔ یہ ووٹ کسی اور کوٹرانسفر نہیں ہو سکتا۔ وہ ”ادارے“ جن کے سامنے سرنگوں ہونے کے لئے وہ اپنے بڑے بھائی کو مستقل قائل کرتے رہتے ہیں، اس حقیقت کو خوب جانتے ہیں۔ NA-120 سے کلثوم نواز کی جیت نے ان کے تجزیے کو ایک بار پھر ”میدان جنگ“ میں درست قرار دیا ہے۔ شریف خاندان کو احتساب کے حوالے سے ”عبرت کا نشان“ بنانا لہٰذا اب مزید ضروری ہو گیا ہے اور گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس جایا کرتا ہے۔ ڈاکٹر بابر اعوان صاحب کو شہباز شریف کے ”گھن“ ہونے کی حقیقت کا خوب علم ہے۔ اطلاع اس ضمن میں راولپنڈی کی لال حویلی سے اُٹھے بقراطِ عصر کے پاس بھی کافی مستند ہے۔ ان دنوں ویسے بھی وہ اس ملک میں ”صداقت و امانت“ پر مبنی سیاست کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لئے ”پبلک پراسیکیوٹر“ کا رول ادا کر رہے ہیں۔ پانامہ کیس میں بطور ایک فریق اپنا کیس انہوں...