Skip to main content

AGAR TESRI JANG-E- AZEEM HOTI TO











اسلام آباد (سپشل رپورٹ ڈیلی اوصاف ویب ٹیم )دنیا میں اگر تیسری جنگ عظیم شروع ہو تی ہے تو ان میں دس ممالک ایسے جو تیسری جنگ عظیم کے آثار سے محفوظ رہیں گے ۔یہ ممالک نہ صرف محفوظ رہیں گے بلکہ جنگ کے اثرات سے بھی محفوظ رہیں گے ۔ تفصیلات کے مطابق ان ممالک میں پہلے نمبر ’’فجی ‘‘ ہے ، بحرالکائل پر واقع یہ دور افتادہ جزیرہ ہے جو کہ بالکل امن پسند ہے فجی ہزاروں سال سے انسانی آباد کاریوں کا مرکز رہا ہے ۔ یہ جزیرہ اپنا اناج خود پید ا کر تا ہے ۔ اسی وجہ سے اگر دنیا میں جنگ عظیم سوئم ہوتی ہے تو یقیناً ’’فجی ایک محفوظ مقام ثابت ہو گا ۔ دوسرے نمبر پر’’ آئرلینڈ‘‘، یہ ایک امن پسند ملک ہے اور یہ نیٹو کا ممبر بھی ہے ۔ یہ جنگ عظیم سوئم ہونے کی صورت میں یہ بھی محفوظ ملک سمجھا جاتا ہے ۔ اس لسٹ میں تیسرے نمبر پر’’ مالٹا‘‘ آتا ہے جو کہ ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے ۔ اور یہ یورپ میں واقع ہے ۔ جنگ عظیم دوئم میں بھی مالٹا ایک محفوظ مقام تھا ، اسی لیے اس جزیرے کو تسخیر کرنا آسان نہیں۔ یہ اتنا چھوٹا جزیرہ ہے کہ اگر اس پر ایٹم بم چلایا جائے تو وہ ایٹم بم ضائع کرنے کے مترادف ہو گا ۔جنگ عظیم سوئم کی صورت میں ’’مالٹا ‘‘ کو بالکل نظر انداز کر دیا جائے گا جس کی وجہ سے یہ ایک محفوظ مقام ثابت ہو گا ۔ چوتھے نمبرپر ’’ڈنمارک ‘‘ آتا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جنگ عظیم سوئم کی صورت میں ڈنمارک کا بہت نقصان ہو سکتا ہے کیو نکہ ڈنمار ک نیٹو میں ملوث ہے ۔ لیکن اس کے باوجو د یہ ایک محفوظ مقام ثابت ہو گا کیونکہ اس کی وجہ گرین لینڈ ہے ۔ جو کہ ڈنمارک کا حصہ ہے جنگ عظیم کی صورت میں’’ گرین لینڈ ‘‘ڈنمارک کے شہریوں کیلئے بہترین محفوظ گا ہ ثابت ہو گی ۔ اس لسٹ میں پانچویں نمبرپر ’’آئس لینڈ ‘‘کا آتا ہے ۔ آئس لینڈ ایک پر امن ملک ہے ۔ یہی وجہ ہے 2015مین گلوبل ایسٹ انڈیکس میں پہلے نمبر ہے ، اگرجنگ ہوتی بھی ہے تو یہ ایک محفوظ ملک تصور کیا جائے گا ۔ چھٹے نمبر ’’چلی ‘‘ کا آتا ہے ۔ چلی جنوبی امریکا کا ایک ایسا ملک ہے جو کہ تیزی کیساتھ ترقی کی راہ میں گامزن ہے ۔ اور ترقی میں چلی جنوبی امریکہ میں پہلے نمبر پر ہے ۔ 
اس کا محلہ وقوع بھی ایسا ہے جو کہ اسے ایک محفوظ ملک بناتا ہے ۔ جبکہ کہ اس کی آب و ہوا بھی صاف ستھری ہے ۔اگر جنگ عظیم ہوتی ہے تو’’چلی ‘‘ بھی ایک محفوظ ملک تصور کیا جاتا ہے ۔ نمبر سات پر بھوٹا ن آتا ہے ۔ حالانکہ بھوٹان کی سرحدیں انڈیا اور چائنہ سے ملتیں ہیں ۔ انڈیا اور چائنہ وہ ملک جو جنگ عظیم شروع کرنے میں ایک کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود بھوٹا ن ایک پر امن ملک ہے اور بھوٹان کے امریکہ سے کوئی بھی ڈپلومیٹک ریلشن نہیں ۔ یہ یقیناًجنگ عظیم ہونے کی صورت میں ایک پر امن ملک ہو گا ۔ اس لسٹ میں 8نمبر پر ’’طوالو‘‘ کا آتا ہے ۔ بحرالکال میں واقع یہ ایک بہت ہی چھوٹا جزیرہ ہے ۔ طوالو کی آباد ی بھی بہت محدود ہے ۔ اسی وجہ سے کوئی دوسرا ملک اس پر حملہ نہیں کرے گا ۔ اناج کے معاملے میں یہ ملک خود مختار ہے ۔ لہٰذا ’’طوالو‘‘ بھی پرامن ملک اور جنگ کے اثرات سے محفوظ جانا جاتا ہے ۔ اس لسٹ میں نویں نمبر ’’نیوزی لینڈ ‘‘ کا آتا ہے ۔ نیوزی لینڈ ایک ترقی یافتہ ملک ہے ۔ یہ ایک مستحکم اور جمہوری ملک ہے اور یہ ہمیشہ سے پرامن رہا ہے ۔ یہ ملک دنیا میں ہونے والی کسی بھی جارحیت میں ملوث نہیں رہا اور نیوزی لینڈ بھی سویزی لینڈ کی طرح یہ پہاڑوں اور وادیوں میں گہرا ہوا ہے اور یہ پہاڑہی اس کے دفاع میں اہم کر دار ادا کریں گے ۔ اس کے علاوہ یہ ملک اپنا اناج خود پیدا کر تا ہے اگر جنگ عظیم سوئم ہو جاتی ہے تو اس صورت میں نیوزی لینڈ اپنا دفاع بخوبی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اس لسٹ میں آخری اور دسواں نمبر’’ سوئس لینڈ‘‘ کا آتا ہے ۔ پہاڑوں اور وادیوں میں گہرا یہ ایک خوبصورت ملک ہے ۔ سوئس لینڈ ایک ہمیشہ ہی ایک پرامن ملک رہا ہے ۔ عسکری طاقت کا حامل یہ ملک یہ ہمیشہ ہی غیر جانبدار رہا ہے ۔

Popular posts from this blog

RAYMOND DAVIS COMMENTS ABOUT MUNAWAR HASSAN IN HIS BOOK THE CONTRACTOR

HAZRAT BEHLOL AND HAROON-UR-RASHID

حضرت بہلول دانا ؒاور خلیفہ ہارون الرشید بہلول کا نام تو آپ نے ضرور سنا ہو گا جنہیں بہلول دانا بھی کہا جاتا ہے۔ آپ پانچویں عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے دور (مارچ 766 ء سے مارچ 809ء) میں ایک فلاسفر، ولی کامل اور تارک الدنیا درویش کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ ان کا کوئی گھر یا ٹھکانہ نہیں تھا، شہر میں ننگے پاؤں پھرتے اور جس جگہ تھک جاتے، وہیں ڈیرہ ڈال لیتے۔ بعض لوگوں نے انہیں مجذوب بھی لکھا ہے کیونکہ وہ عشق الٰہی میں گم اور اردگرد کے ماحول سے بے خبر ہوتے تھے۔ بہت کم لوگوں کی طرف التفات کرتے لیکن جب کبھی عوام الناس کی طرف منہ کرتے تو حکمت و دانائی کی بہت ہی عجیب و غریب باتیں کرتے۔ کوفہ میں پیدا ہونے والے بہلول کا اصل نام وہب بن عمرو اور تعلق عرب قبیلے بنو امان سے تھا۔ ان کے والد چھٹے امام جعفر الصادق کے شاگرد تھے، لیکن کچھ وقت ساتویں امام موسیٰ کاظم کی صحبت میں بھی گزارا۔ بہلول کا شمار بھی امام موسیٰ کاظم کے پیرو کاروں میں ہوتا تھا۔ جب خلیفہ ہارون الرشید نے امام موسیٰ کاظم کو قید کرنے کے بعد ان کے تابعین کے خلاف کارروائیاں شروع کیں تو وہب اور کچھ دوسرے لوگوں نے امام سے قید خانے میں ملاقات کر...