Skip to main content

KAMRAN AKMAL MADE FASTEST FIFTY IN FEW BALLS













KAMRAN AKMAL MADE  FASTEST FIFTY IN FEW BALLS 
لاہور:پاکستان قومی ٹیم کا سابقہ سپر سٹار بلے باز اور ویکٹ کیپر کامران اکمل کئی میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں ،لیکن آج کل قومی ٹیم سے باہر ہے ،موصوف نے قومی ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ میں لاہور وائٹس کے وکٹ کیپر بلے باز کامران اکمل نے ڈومیسٹک ٹی ٹونٹی میں لاہور کی کسی بھی ٹیم کی جانب سے تیز ترین نصف سنچری سکور کرنے کا کارنامہ سر انجا م دے ڈالا ہے ۔35سالہ کامران اکمل نے نیشنل ٹی ٹونٹی میں لاہور وائٹس کی جانب سے فاٹا کی ٹیم کے خلاف محض20گیندوں پر اپنے کیریئر کی 29ویں نصف سنچری مکمل کی جو لاہور کی کسی بھی ٹیم کی جانب سے نیشنل ٹی ٹونٹی میں بنائی گئی تیز ترین ففٹی ہے ، کامران اکمل کی یہ نصف سنچری پاکستان میں کھیلے جانے والے ڈومیسٹک ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ میں کسی بھی کھلاڑی کی جانب سے تیسر ی تیز ترین نصف سنچری ہے ۔ملکی ڈومیسٹک ٹورنامنٹ میں پہلی 2تیز ترین نصف سنچریاں سکور کرنے کا ریکارڈجارح مزاج اوپننگ بلے باز عمران نذیر کے پاس ہے جنہوں نے اپریل 2005ءمیں سیالکوٹ سٹالینز کی جانب سے لاہور بلیوز کیخلاف 14اور مئی 2009ءمیں سیالکوٹ سٹالینز ہی کی جانب سے لاہور وائٹس کیخلاف 17گیندوں پر نصف سنچریاں سکور کررکھی ہیں ۔

Popular posts from this blog

HAZRAT BEHLOL AND HAROON-UR-RASHID

حضرت بہلول دانا ؒاور خلیفہ ہارون الرشید بہلول کا نام تو آپ نے ضرور سنا ہو گا جنہیں بہلول دانا بھی کہا جاتا ہے۔ آپ پانچویں عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے دور (مارچ 766 ء سے مارچ 809ء) میں ایک فلاسفر، ولی کامل اور تارک الدنیا درویش کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ ان کا کوئی گھر یا ٹھکانہ نہیں تھا، شہر میں ننگے پاؤں پھرتے اور جس جگہ تھک جاتے، وہیں ڈیرہ ڈال لیتے۔ بعض لوگوں نے انہیں مجذوب بھی لکھا ہے کیونکہ وہ عشق الٰہی میں گم اور اردگرد کے ماحول سے بے خبر ہوتے تھے۔ بہت کم لوگوں کی طرف التفات کرتے لیکن جب کبھی عوام الناس کی طرف منہ کرتے تو حکمت و دانائی کی بہت ہی عجیب و غریب باتیں کرتے۔ کوفہ میں پیدا ہونے والے بہلول کا اصل نام وہب بن عمرو اور تعلق عرب قبیلے بنو امان سے تھا۔ ان کے والد چھٹے امام جعفر الصادق کے شاگرد تھے، لیکن کچھ وقت ساتویں امام موسیٰ کاظم کی صحبت میں بھی گزارا۔ بہلول کا شمار بھی امام موسیٰ کاظم کے پیرو کاروں میں ہوتا تھا۔ جب خلیفہ ہارون الرشید نے امام موسیٰ کاظم کو قید کرنے کے بعد ان کے تابعین کے خلاف کارروائیاں شروع کیں تو وہب اور کچھ دوسرے لوگوں نے امام سے قید خانے میں ملاقات کر...

BILAL PASHA- A CSS OFFICER FROM SOUTH PUNJAB IS NO MORE IN THIS WORLD

بلال پاشا کا غربت سے سی ایس ایس اور پھر داعی اجل کو لبیک کہہ دینے تک کا سفر بلال پاشا جنوبی پنجاب کے ایک پسماندہ علاقہ میں پیدا ہوا۔ والد دیہاڑی دار مزدور تھے۔ مالی حالات اچھے نہ ہونے کی وجہ سے مسجد میں ہی قائم مکتب سے پرائمری پاس کی۔ جنوبی پنجاب کی پسماندگی کا عالم سب پر عیاں ہے لہذا بلال پاشا نے بھی چھٹی جماعت سے اے بی سی پڑھنا شروع کی۔ انٹر میڈیٹ ایمرسن کالج ملتان اور بیچلر زرعی یو یونیورسٹی فیصل آباد سے کیا۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ مسجد سے پانچ جماعتیں کرنے والا بچہ کل کو مقابلے کا امتحان پاس کرکے سی ایس پی بن جائے گا۔ بلال پاشا نے کیریئر کا آغاز ایک پرائیویٹ نوکری سے کیا۔ لیکن والد کی خواہش پر گورنمنٹ سروس میں آیا اور پولیس میں سب انسپکٹر بھرتی ہوگیا۔ بعد ازاں مختلف سرکاری اداروں میں سولہویں اور سترہویں سکیل کی ملازمت کرتے ہوئے 2018 ء میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کرنے میں کامیاب ہوا۔ بلال پاشا نے اپنے بیک گرائونڈ کو چھپانے کی بجائے اپنے سفید داڑھی والے مزدور باپ کے ساتھ کھڑے ہوکر انٹرویو دیا اور پاکستان کے ان نوجوانوں میں امید کی شمع جلائی جو سی ایس ایس ...