Skip to main content

MUSIC IN MARRIAGE HAS BEEN PROHIBITED IN PESHAWAR

خبر دار ، شادی میں میوزک اور گانا بجانا چھوڑدیں ورنہ نکاح نہیں پڑھایا جائےگا











 پشاور(ویب ڈیسک) پشاور میں علما کے ایک گروپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان شادیوں میں نکاح نہیں پڑھائیں گے جہاں بلند آواز سے میوزک چلا کر لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی کی جا رہی ہو۔مولانا دوست محمد نے اس بات کا اعلان کرتے ہوئےبتایا کہ ایک 30 رکنی کمیٹی قائم کی گئی ہے جو اس بات کو یقینی بنائے گی کہ قانون کی خلاف ورزی نہ ہو، ان کا کہنا تھا اگر کوئی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو علاقے میں کوئی عالم اس کا نکاح نہیں پڑھائے گا، اگر اس کے باوجود کوئی نکاح پڑھائے گا تو اسے 10 ہزار روپے جرمانہ کیا جائے گا۔دوست محمد نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ خالص عوام کے مفاد میں کیا گیا ہے، انھوں نے مقامی انتظامیہ اور پولیس سے درخواست کی کہ وہ فیصلے پر عملدرآمد میں ان کی معاونت کریں، شہر کے نواح میں رہائشیوں کا کہنا ہے کہ جب طالبان نے یہ علاقہ کنٹرول کیا تھا تو شادی بیاہ میں میوزک پر پابندی تھی تاہم اب وہ میوزک چلا سکتے ہیں۔مولانا دوست محمد کا مزید کہنا تھا کہ ڈسک جوکیز اور لاؤڈ اسپیکر کے استعمال نے ان لوگوں کو پریشان کیا ہے جنھیں جلدی سونے کی عادت ہوتی ہے، شادی بیاہ میں بلند آواز سے میوزک کے متعلق انتظامیہ کو کئی شکایات کی گئی ہیں۔علاوہ ازیں ایک شہری امیر زیب نے بتایا کہ لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی قابل دست اندازی جرم ہے، ہم میوزک کے خلاف نہیں تاہم بلند آواز سے میوزک چلا کر دوسروں کو پریشان نہیں کرنا چاہیے جبکہ ایک دوسرے رہائشی نے بتایا کہ شادی بیاہ میں اونچی میوزک سے ان کے بچے درمیانی رات جاگ جاتے ہیں، یہ ایک مسئلہ بن گیا ہے۔

Popular posts from this blog

RAYMOND DAVIS COMMENTS ABOUT MUNAWAR HASSAN IN HIS BOOK THE CONTRACTOR

HAZRAT BEHLOL AND HAROON-UR-RASHID

حضرت بہلول دانا ؒاور خلیفہ ہارون الرشید بہلول کا نام تو آپ نے ضرور سنا ہو گا جنہیں بہلول دانا بھی کہا جاتا ہے۔ آپ پانچویں عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے دور (مارچ 766 ء سے مارچ 809ء) میں ایک فلاسفر، ولی کامل اور تارک الدنیا درویش کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ ان کا کوئی گھر یا ٹھکانہ نہیں تھا، شہر میں ننگے پاؤں پھرتے اور جس جگہ تھک جاتے، وہیں ڈیرہ ڈال لیتے۔ بعض لوگوں نے انہیں مجذوب بھی لکھا ہے کیونکہ وہ عشق الٰہی میں گم اور اردگرد کے ماحول سے بے خبر ہوتے تھے۔ بہت کم لوگوں کی طرف التفات کرتے لیکن جب کبھی عوام الناس کی طرف منہ کرتے تو حکمت و دانائی کی بہت ہی عجیب و غریب باتیں کرتے۔ کوفہ میں پیدا ہونے والے بہلول کا اصل نام وہب بن عمرو اور تعلق عرب قبیلے بنو امان سے تھا۔ ان کے والد چھٹے امام جعفر الصادق کے شاگرد تھے، لیکن کچھ وقت ساتویں امام موسیٰ کاظم کی صحبت میں بھی گزارا۔ بہلول کا شمار بھی امام موسیٰ کاظم کے پیرو کاروں میں ہوتا تھا۔ جب خلیفہ ہارون الرشید نے امام موسیٰ کاظم کو قید کرنے کے بعد ان کے تابعین کے خلاف کارروائیاں شروع کیں تو وہب اور کچھ دوسرے لوگوں نے امام سے قید خانے میں ملاقات کر...