Skip to main content

US NORTH KOREA TENSION INCREASED


شمالی کوریا نے اپنی ایٹمی پروگرام کو جاری رکھتے ہوئے امریکی ٹینشن میں اضافہ کیا ہوا ہے ۔جنرل اسمبلی میں شمالی کوریا کے وزیر خارجہ نے امریکا کے صدر پر خوب تنقید کی اور انہیں خبر دار کیا کہ شمالی کوریا پر حملہ کرنا خود کشی کے مترادف ہے ۔ ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا شمالی کوریا کے خلاف فوجی اقدام کے لیے پوری طرح تیار ہے اور یہ آپشن شمالی کوریا کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔واضح رہے کہ ٹرمپ نے اس سے قبل بھی شمالی کوریا کو فوجی حملے کی دھمکی دی تھی جبکہ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی کہا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں شمالی کوریا کے سلسلے میں ایک آپشن فوجی بھی ہے۔ دریں اثنا ایسے میں جب جوہری پروگرام پر شمالی کوریا کے ساتھ تناؤ بڑھ رہا ہے، امریکا نے شمالی کوریا کی 8بینکوں اور بینکوں کے 26 منتظمین پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر خزانہ، اسٹیون نوشن نے ایک بیان میں کہا کہ اس کے ذریعے ہم شمالی کوریا کو اکیلا کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہوسکیں گے، جس سے جزیرہ کوریا کو پرامن اور جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے وسیع تر مفادکا حصول ممکن ہوگا۔گزشتہ ہفتے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک حکم نامے پر دستخط کیے جس کے تحت شمالی کوریا کی اکیلے پن کی شکار کمیونسٹ حکومت کے ساتھ، جو اسلحے کی تشکیل کے اپنے پروگرام پر خوب رقوم خرچ کر رہی ہے، اس کے ساتھ تجارت کرنے والے افراد اور کاروباری اداروں کے خلاف نئی معاشی تعزیرات عائد کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ دوسری طرف جنوبی کوریا کے خفیہ اداروں کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ شمالی کوریا نے ملک کے مشرق میں جنگی طیاروں کو ازسرنو تعینات کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نگرانی میں ممکنہ اضافہ کیا جا رہا ہے۔جنوبی کوریا کے سرکاری خبررساں ادارے کے مطابق شمالی کوریاکے مشرقی علاقے میںطیاروں کی تعیناتی سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹویٹ پر شمالی کوریائی وزیرِ خارجہ ری یونگ ہو اور ان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا تھا۔ ہفتے کو امریکی فوج کے بی ون بمبار طیاروں سمیت جنگی طیاروں نے شمالی کوریا کے مشرق میں بین الاقوامی فضائی حدود میں سمندر کے اوپر پرواز کی تھی۔جنوبی کوریا کی نیشنل انٹیلی جنس سروس کے میں شریک ایک قانون ساز کے مطابق پینٹاگون کی جانب سے پروازوں کے اعلان کے بعد شمالی کوریا نے اپنے جنگی طیاروں کو ازسرنو تعینات کیا ہے

Popular posts from this blog

RAYMOND DAVIS COMMENTS ABOUT MUNAWAR HASSAN IN HIS BOOK THE CONTRACTOR

HAZRAT BEHLOL AND HAROON-UR-RASHID

حضرت بہلول دانا ؒاور خلیفہ ہارون الرشید بہلول کا نام تو آپ نے ضرور سنا ہو گا جنہیں بہلول دانا بھی کہا جاتا ہے۔ آپ پانچویں عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے دور (مارچ 766 ء سے مارچ 809ء) میں ایک فلاسفر، ولی کامل اور تارک الدنیا درویش کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ ان کا کوئی گھر یا ٹھکانہ نہیں تھا، شہر میں ننگے پاؤں پھرتے اور جس جگہ تھک جاتے، وہیں ڈیرہ ڈال لیتے۔ بعض لوگوں نے انہیں مجذوب بھی لکھا ہے کیونکہ وہ عشق الٰہی میں گم اور اردگرد کے ماحول سے بے خبر ہوتے تھے۔ بہت کم لوگوں کی طرف التفات کرتے لیکن جب کبھی عوام الناس کی طرف منہ کرتے تو حکمت و دانائی کی بہت ہی عجیب و غریب باتیں کرتے۔ کوفہ میں پیدا ہونے والے بہلول کا اصل نام وہب بن عمرو اور تعلق عرب قبیلے بنو امان سے تھا۔ ان کے والد چھٹے امام جعفر الصادق کے شاگرد تھے، لیکن کچھ وقت ساتویں امام موسیٰ کاظم کی صحبت میں بھی گزارا۔ بہلول کا شمار بھی امام موسیٰ کاظم کے پیرو کاروں میں ہوتا تھا۔ جب خلیفہ ہارون الرشید نے امام موسیٰ کاظم کو قید کرنے کے بعد ان کے تابعین کے خلاف کارروائیاں شروع کیں تو وہب اور کچھ دوسرے لوگوں نے امام سے قید خانے میں ملاقات کر...