Skip to main content

SIRAJ UL HAQ WATCHED THE INDEPENDENCE CUP-17 AT QDAFI STADIUM LAHORE ON NORMAL TICKET














لاہور :پاکستان اور ورلڈ الیون کے مابین تیسرا اور آخری ٹی ٹوئنٹی میچ شروع ہونے والا ہے. ملک کی ایک اہم سیاسی 
شخصیت بھی میچ دیکھنے کےلئے سٹیڈیم میں آپہنچا ہے. سیاست دان پاکستان بھر میں سادگی اور سچائی کےلیے مشہور اور ہر وقت عوام کے درمیاں ان ہی کے رنگ میں رچ بس کر رہنے والے دیر لوئر کے غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے سراج الحق ۔روزنامہ اوصاف کے مطابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق اپنی سادگی اور کفایت شعار ی پر مبنی زندگی کی بدولت سیاست میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں. آج کے میچ کو دیکھنے کےلئے وہ بھی سٹیڈیم پہنچ گئے ہیں لیکن قابل ذکر یہ ہے کہ وہ یہ میچ وی آئی پی انکلوژر میں بیٹھ کر نہیں بلکہ عام لوگوں کے ساتھ بیٹھیں گے جس کےلئے انھوں نے سب سے کم قیمت یعنی پانچ سو روپے والا ٹکٹ خریدا ہے۔ یاد رہے کہ پی ایس ایل کا میچ بھی سراج الحق نے عوام کےد رمیاں دیکھا تھا ۔کل بھی قذافی سٹیڈیم میں لوگوں نے امیر جماعت کے ساتھ بہت سلفیاں بنائی۔

Popular posts from this blog

HAZRAT BEHLOL AND HAROON-UR-RASHID

حضرت بہلول دانا ؒاور خلیفہ ہارون الرشید بہلول کا نام تو آپ نے ضرور سنا ہو گا جنہیں بہلول دانا بھی کہا جاتا ہے۔ آپ پانچویں عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے دور (مارچ 766 ء سے مارچ 809ء) میں ایک فلاسفر، ولی کامل اور تارک الدنیا درویش کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ ان کا کوئی گھر یا ٹھکانہ نہیں تھا، شہر میں ننگے پاؤں پھرتے اور جس جگہ تھک جاتے، وہیں ڈیرہ ڈال لیتے۔ بعض لوگوں نے انہیں مجذوب بھی لکھا ہے کیونکہ وہ عشق الٰہی میں گم اور اردگرد کے ماحول سے بے خبر ہوتے تھے۔ بہت کم لوگوں کی طرف التفات کرتے لیکن جب کبھی عوام الناس کی طرف منہ کرتے تو حکمت و دانائی کی بہت ہی عجیب و غریب باتیں کرتے۔ کوفہ میں پیدا ہونے والے بہلول کا اصل نام وہب بن عمرو اور تعلق عرب قبیلے بنو امان سے تھا۔ ان کے والد چھٹے امام جعفر الصادق کے شاگرد تھے، لیکن کچھ وقت ساتویں امام موسیٰ کاظم کی صحبت میں بھی گزارا۔ بہلول کا شمار بھی امام موسیٰ کاظم کے پیرو کاروں میں ہوتا تھا۔ جب خلیفہ ہارون الرشید نے امام موسیٰ کاظم کو قید کرنے کے بعد ان کے تابعین کے خلاف کارروائیاں شروع کیں تو وہب اور کچھ دوسرے لوگوں نے امام سے قید خانے میں ملاقات کر...

BILAL PASHA- A CSS OFFICER FROM SOUTH PUNJAB IS NO MORE IN THIS WORLD

بلال پاشا کا غربت سے سی ایس ایس اور پھر داعی اجل کو لبیک کہہ دینے تک کا سفر بلال پاشا جنوبی پنجاب کے ایک پسماندہ علاقہ میں پیدا ہوا۔ والد دیہاڑی دار مزدور تھے۔ مالی حالات اچھے نہ ہونے کی وجہ سے مسجد میں ہی قائم مکتب سے پرائمری پاس کی۔ جنوبی پنجاب کی پسماندگی کا عالم سب پر عیاں ہے لہذا بلال پاشا نے بھی چھٹی جماعت سے اے بی سی پڑھنا شروع کی۔ انٹر میڈیٹ ایمرسن کالج ملتان اور بیچلر زرعی یو یونیورسٹی فیصل آباد سے کیا۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ مسجد سے پانچ جماعتیں کرنے والا بچہ کل کو مقابلے کا امتحان پاس کرکے سی ایس پی بن جائے گا۔ بلال پاشا نے کیریئر کا آغاز ایک پرائیویٹ نوکری سے کیا۔ لیکن والد کی خواہش پر گورنمنٹ سروس میں آیا اور پولیس میں سب انسپکٹر بھرتی ہوگیا۔ بعد ازاں مختلف سرکاری اداروں میں سولہویں اور سترہویں سکیل کی ملازمت کرتے ہوئے 2018 ء میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کرنے میں کامیاب ہوا۔ بلال پاشا نے اپنے بیک گرائونڈ کو چھپانے کی بجائے اپنے سفید داڑھی والے مزدور باپ کے ساتھ کھڑے ہوکر انٹرویو دیا اور پاکستان کے ان نوجوانوں میں امید کی شمع جلائی جو سی ایس ایس ...