Skip to main content

IS IQRAR UL HASAN DIED IN BURMA

ینگون (نیوزڈیسک )مشہور و معروف ٹی وی اینکر اقرار الحسن ان دنوں برما کے دورے پر ہیں. جبکہ گزشتہ رات سے وہ لاپتہ ہیں . اس باری میں برما میں موجود افراد کا کہنا ہے کہ اقرارالحسن جس علاقہ میں گئے تھے وہاں شدید حالات خراب ہیں اور ان کی وہاں ہلاکت کی اطلاعات بھی آئیں ہیں مزید اس بارے میں نہ تصدیق کی جا سکتی ہے نہ تردید. پاکستان میں موجود ان کے خاندانی زرائع نے تا حال کسی قسم کی ناگہانی صورتحال کے بارے میں قیا س آرائی سے گریز کیا ہے. جبکہ سوشل میڈیا اور مختلف ویب سائیٹس نے نا معلوم زرائع کی بناد پر یہ دعویٰ کیا ہے. سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر انھوں نے بہادر شاہ ظفر کے مزار پر لی گئی ایک تصویر کو شئیرکیا ہے۔تاہم آج فیس بک پر ان کیایک اور تصویر منظر عام پر آئی ہے۔ اپنی تصویر کے ساتھ اقرار الحسن نے لکھا کہ یہ میری زندگی کا سب سے مشکل کام ہے۔ کیونکہ میں 72 گھنٹوں سے سوئے بغیر مسلسل سفر کر رہا ہوں اور چل رہا ہوں۔ اقرار الحسن کے چاہنے والوں نے سوشل میڈیا پر ان کے لیے نیک تمناوں کا اظہار کیا اور ان کی بخیر و عافیت وطن واپسی کی دعا بھی کی۔ سوشل میڈیا صارفین نے اقرار الحسن کے اس اقدام کو خوب سراہا اور دعا کی کہ اللہ ان کی حفاظت کرے

Popular posts from this blog

RAYMOND DAVIS COMMENTS ABOUT MUNAWAR HASSAN IN HIS BOOK THE CONTRACTOR

HAZRAT BEHLOL AND HAROON-UR-RASHID

حضرت بہلول دانا ؒاور خلیفہ ہارون الرشید بہلول کا نام تو آپ نے ضرور سنا ہو گا جنہیں بہلول دانا بھی کہا جاتا ہے۔ آپ پانچویں عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے دور (مارچ 766 ء سے مارچ 809ء) میں ایک فلاسفر، ولی کامل اور تارک الدنیا درویش کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ ان کا کوئی گھر یا ٹھکانہ نہیں تھا، شہر میں ننگے پاؤں پھرتے اور جس جگہ تھک جاتے، وہیں ڈیرہ ڈال لیتے۔ بعض لوگوں نے انہیں مجذوب بھی لکھا ہے کیونکہ وہ عشق الٰہی میں گم اور اردگرد کے ماحول سے بے خبر ہوتے تھے۔ بہت کم لوگوں کی طرف التفات کرتے لیکن جب کبھی عوام الناس کی طرف منہ کرتے تو حکمت و دانائی کی بہت ہی عجیب و غریب باتیں کرتے۔ کوفہ میں پیدا ہونے والے بہلول کا اصل نام وہب بن عمرو اور تعلق عرب قبیلے بنو امان سے تھا۔ ان کے والد چھٹے امام جعفر الصادق کے شاگرد تھے، لیکن کچھ وقت ساتویں امام موسیٰ کاظم کی صحبت میں بھی گزارا۔ بہلول کا شمار بھی امام موسیٰ کاظم کے پیرو کاروں میں ہوتا تھا۔ جب خلیفہ ہارون الرشید نے امام موسیٰ کاظم کو قید کرنے کے بعد ان کے تابعین کے خلاف کارروائیاں شروع کیں تو وہب اور کچھ دوسرے لوگوں نے امام سے قید خانے میں ملاقات کر...