Skip to main content

A QUICK RESPONSE TO OPPONENT

آزاد بلوچستان کی مہم چلانے والے مود ی کو بھارت بچانے کے لالے پڑ گئے ۔

















نیو یارک :دوسروں کو تنہا کرنے اور دوسرے ملکوں کو  تھوڑنے کے کوشش  کرنے والے بھارت نے کو لینے کے دینے پڑ گئے جب سے  بھارت نے جنیوا میں آزاد بلوچستان کی تشہیری مہم شروع کی تو پاکستان نے بھی اس کا جواب دینے کیلئے نہ صرف کشمیر میں جاری مظالم کا پردہ چاک کیا بلکہ سوئس سفیر کو طلب کرکے شدید احتجاج بھی کیا گیا ، اب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر سکھ بھی میدان میں آگئے اور امریکہ میں مظاہرے شروع کردیے جس سے مودی سرکاردنیا بھر میں ذلیل و رسوا ہو کر رہ گئی ہے۔









 خالصتان تحریک کے حامی ہزاروں سکھوں نے نیویارک کے ٹائمز سکوائر میں بھارت مخالف ریلی نکالی۔ اس موقع پر انہوں نے بھارت مخالف بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر آزادی کے نعرے بھی درج تھے۔ سکھوں نے اپنے 
مظاہرے کے دوران نہ صرف آزادی کا مطالبہ کیا بلکہ بھارت کو دہشتگرد ریاست اور سکھوں کی قاتل سٹیٹ قرار دیا ۔













 سکھ مظاہرین نے عالمی برداری سے مطالبہ کیا کہ ان پر جاری بھارتی مظالم کا سلسلہ بند کرایا جائے اور 1984 کے  گولڈن ٹیمپل سانحے میں مارے جانے والے سکھوں کے اہلخانہ کی انصاف کی فراہمی میں مدد کی جائے۔یاد رہے کہ اس 

Popular posts from this blog

HAZRAT BEHLOL AND HAROON-UR-RASHID

حضرت بہلول دانا ؒاور خلیفہ ہارون الرشید بہلول کا نام تو آپ نے ضرور سنا ہو گا جنہیں بہلول دانا بھی کہا جاتا ہے۔ آپ پانچویں عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے دور (مارچ 766 ء سے مارچ 809ء) میں ایک فلاسفر، ولی کامل اور تارک الدنیا درویش کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ ان کا کوئی گھر یا ٹھکانہ نہیں تھا، شہر میں ننگے پاؤں پھرتے اور جس جگہ تھک جاتے، وہیں ڈیرہ ڈال لیتے۔ بعض لوگوں نے انہیں مجذوب بھی لکھا ہے کیونکہ وہ عشق الٰہی میں گم اور اردگرد کے ماحول سے بے خبر ہوتے تھے۔ بہت کم لوگوں کی طرف التفات کرتے لیکن جب کبھی عوام الناس کی طرف منہ کرتے تو حکمت و دانائی کی بہت ہی عجیب و غریب باتیں کرتے۔ کوفہ میں پیدا ہونے والے بہلول کا اصل نام وہب بن عمرو اور تعلق عرب قبیلے بنو امان سے تھا۔ ان کے والد چھٹے امام جعفر الصادق کے شاگرد تھے، لیکن کچھ وقت ساتویں امام موسیٰ کاظم کی صحبت میں بھی گزارا۔ بہلول کا شمار بھی امام موسیٰ کاظم کے پیرو کاروں میں ہوتا تھا۔ جب خلیفہ ہارون الرشید نے امام موسیٰ کاظم کو قید کرنے کے بعد ان کے تابعین کے خلاف کارروائیاں شروع کیں تو وہب اور کچھ دوسرے لوگوں نے امام سے قید خانے میں ملاقات کر...

BILAL PASHA- A CSS OFFICER FROM SOUTH PUNJAB IS NO MORE IN THIS WORLD

بلال پاشا کا غربت سے سی ایس ایس اور پھر داعی اجل کو لبیک کہہ دینے تک کا سفر بلال پاشا جنوبی پنجاب کے ایک پسماندہ علاقہ میں پیدا ہوا۔ والد دیہاڑی دار مزدور تھے۔ مالی حالات اچھے نہ ہونے کی وجہ سے مسجد میں ہی قائم مکتب سے پرائمری پاس کی۔ جنوبی پنجاب کی پسماندگی کا عالم سب پر عیاں ہے لہذا بلال پاشا نے بھی چھٹی جماعت سے اے بی سی پڑھنا شروع کی۔ انٹر میڈیٹ ایمرسن کالج ملتان اور بیچلر زرعی یو یونیورسٹی فیصل آباد سے کیا۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ مسجد سے پانچ جماعتیں کرنے والا بچہ کل کو مقابلے کا امتحان پاس کرکے سی ایس پی بن جائے گا۔ بلال پاشا نے کیریئر کا آغاز ایک پرائیویٹ نوکری سے کیا۔ لیکن والد کی خواہش پر گورنمنٹ سروس میں آیا اور پولیس میں سب انسپکٹر بھرتی ہوگیا۔ بعد ازاں مختلف سرکاری اداروں میں سولہویں اور سترہویں سکیل کی ملازمت کرتے ہوئے 2018 ء میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کرنے میں کامیاب ہوا۔ بلال پاشا نے اپنے بیک گرائونڈ کو چھپانے کی بجائے اپنے سفید داڑھی والے مزدور باپ کے ساتھ کھڑے ہوکر انٹرویو دیا اور پاکستان کے ان نوجوانوں میں امید کی شمع جلائی جو سی ایس ایس ...