Skip to main content

PAKISTANI CRICKETER PLAYED TREMENDOUS INNINGS IN SINGAPOR









پاکستان کی شان ’صاحبزادہ فرحان‘ نے ہانگ کانگ سکسز کے میچ میں ناقابل یقین کارنامہ سرانجام دیدیا، جان کر
آپ بھی داد دینے پر مجبور ہو جائیں گے ہانگ کانگ

ہانگ کانگ : ایک جانب قومی کرکٹ ٹیم سری لنکا کیخلاف برسرپیکار ہے اور کامیابیاں سمیٹ رہی ہے تو دوسری جانب پاکستانی کرکٹرز ہانگ کانگ سکسز ٹورنامنٹ میں بھی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں اور دنیا کو حیران کرنے میں مصروف ہیں۔ آج ہی شروع ہونے والے اس ٹورنامنٹ میں پاکستان نے جنوبی افریقہ، ہانگ کانگ اور ایم سی سی کی ٹیموں کے خلاف تین میچ کھیلے اور تینوں میں کامیابی حاصل کر کے پاکستان کا نام روشن کر دیا ہے جبکہ جنوبی افریقہ کیخلاف میچ میں صاحبزادہ فرحان نے ایسا ’کارنامہ‘ سرانجام دیا کہ آپ بھی داد دینے پر مجبور ہو جائیں گے۔ آج کھیلے جانے والے میچ میں پاکستان کی نمائندگی حماد اعظم اور صاحبزادہ فرحان کر رہے تھے اور بیٹنگ کیلئے جنوبی افریقہ کی ٹیم موجود تھی۔ حماد اعظم نے گیند کروائی تو جنوبی افریقی بلے باز شاٹ مار کر سکور لینے بھاگا، گیند باﺅنڈری کی طرف جانے لگی تو وکٹ کیپنگ کرتے صاحبزادہ فرحان نے گیند پکڑنے کیلئے دوڑ لگا دی اور حماد اعظم دوڑتے ہوئے بیٹنگ اینڈ پر چلے گئے تاکہ تھرو پکڑ سکیں۔ لیکن صاحبزادہ فرحان نے تھرو باﺅلنگ اینڈ کی طرف پھینک دی جس پر حماد اعظم کو چلاتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ”نہیں نا یار۔۔۔ بیٹنگ اینڈ کی طرف پھینکنے کیلئے کال کی ہے کتنی دفعہ۔“ حماد اعظم ابھی غم و غصے سے باہر نہیں نکل پاتے کہ صاحبزادہ فرحان کی جانب سے پھینکی گئی تھرو سیدھی وکٹوں پر جا لگتی ہے اور بلے باز بھی حیران پریشان رہ جاتا ہے جبکہ سٹیڈیم تالیوں کے شور سے گونج اٹھتا ہے۔ کمنٹیٹر بھی خوشگوار حیرت میں مبتلا ہو کر ان کی تعریفوں کے پل باندھ دیتا ہے۔ واضح رہے کہ ہانگ کانگ سکسز ٹورنامنٹ میں شریک پاکستانی سکواڈ کی قیادت سہیل تنویر کر رہے ہیں جبکہ دیگر کھلاڑیوں میں سہیل خان، جاہد علی، محمد سمیع، انور علی، حماد اعظم اور صاحبزادہ فرحان شامل ہیں۔

Popular posts from this blog

RAYMOND DAVIS COMMENTS ABOUT MUNAWAR HASSAN IN HIS BOOK THE CONTRACTOR

HAZRAT BEHLOL AND HAROON-UR-RASHID

حضرت بہلول دانا ؒاور خلیفہ ہارون الرشید بہلول کا نام تو آپ نے ضرور سنا ہو گا جنہیں بہلول دانا بھی کہا جاتا ہے۔ آپ پانچویں عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے دور (مارچ 766 ء سے مارچ 809ء) میں ایک فلاسفر، ولی کامل اور تارک الدنیا درویش کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ ان کا کوئی گھر یا ٹھکانہ نہیں تھا، شہر میں ننگے پاؤں پھرتے اور جس جگہ تھک جاتے، وہیں ڈیرہ ڈال لیتے۔ بعض لوگوں نے انہیں مجذوب بھی لکھا ہے کیونکہ وہ عشق الٰہی میں گم اور اردگرد کے ماحول سے بے خبر ہوتے تھے۔ بہت کم لوگوں کی طرف التفات کرتے لیکن جب کبھی عوام الناس کی طرف منہ کرتے تو حکمت و دانائی کی بہت ہی عجیب و غریب باتیں کرتے۔ کوفہ میں پیدا ہونے والے بہلول کا اصل نام وہب بن عمرو اور تعلق عرب قبیلے بنو امان سے تھا۔ ان کے والد چھٹے امام جعفر الصادق کے شاگرد تھے، لیکن کچھ وقت ساتویں امام موسیٰ کاظم کی صحبت میں بھی گزارا۔ بہلول کا شمار بھی امام موسیٰ کاظم کے پیرو کاروں میں ہوتا تھا۔ جب خلیفہ ہارون الرشید نے امام موسیٰ کاظم کو قید کرنے کے بعد ان کے تابعین کے خلاف کارروائیاں شروع کیں تو وہب اور کچھ دوسرے لوگوں نے امام سے قید خانے میں ملاقات کر...