Skip to main content

US VILLAGE UTQIAGVIK WILL SAW THEN SUN IN 65 DAYS, ON JAN 2024

وہ قصبہ جہاں 66 دن تک تاریکی قائم رہے گی۔
Utqiagvik saw its last sunrise Saturday before the polar night began. The sun will rise again in the northernmost city of the U.S. in 65 days, on Jan. 23
امریکہ کی ریاست الاسکا میں ایک قصبہ یٹکیاجیوک ہے جو پہلے بیرو کے نام سے جانا جاتا تھا، وہاں 18 نومبر کو دوپہر 12 بج کر 42 منٹ پر سورج طلوع ہوا اور محض 59 منٹ بعد 1:41 پر غروب ہوگیا جس کے بعد وہاں طویل ترین رات کا آغاز ہوگیا اور کیا آپ یقین کر سکتے ہیں کہ وہاں کے رہائشی سورج کی روشنی کو اب دوبارہ دو ماہ سے زیادہ عرصے بعد دیکھ سکیں گے یا یوں کہہ لیں کہ سورج طلوع ہونے کا منظر 65 دن تک دیکھنا ممکن نہ ہو سکے گا اور اگلا سورج وہاں 23 جنوری 2024 کو طلوع ہوگا۔اس منظر کو پولر نائٹ یعنی قطبی رات کہا جاتا ہے۔

الاسکا کے شمالی خطے کا ایک تہائی حصہ آرکٹک سرکل سے اوپر موجود ہے اور اس لیے وہاں ہر سال ان ایام میں زمین اپنے محور پر کچھ جھک جاتی ہے۔ایسا ہونے سے آرکٹک سرکل کے مختلف علاقوں میں موسم سرما کے دوران سورج کئی ہفتوں بلکہ مہینوں تک طلوع نہیں ہوتا ہے اور شدید ترین سردی رہتی ہے جس کو برداشت کرنا کسی باہر کے انسان کے لیے ناممکن ہے لیکن یہاں کی مقامی افراد کی تعداد لگ بھگ چار ہزار ہے جو اس 65 دن کی تاریکی کو جھیلتے ہیں۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اسی قصبے میں گرمیوں میں سورج کی روشنی 24 گھنٹے تک برقرار رہتی ہے اور اس کو مڈنائٹ سن کہا جاتا ہے۔ویسے 2 ماہ سے زیادہ عرصے تک تاریکی کے بارے میں سننا عجیب و غریب تو لگتا ہے مگر اس قصبے کو 11 مئی سے 18 اگست تک کبھی ختم نہ ہونے والی سورج کی روشنی کا بھی سامنا ہوتا ہے

Comments

Popular posts from this blog

RAYMOND DAVIS COMMENTS ABOUT MUNAWAR HASSAN IN HIS BOOK THE CONTRACTOR

HAZRAT BEHLOL AND HAROON-UR-RASHID

حضرت بہلول دانا ؒاور خلیفہ ہارون الرشید بہلول کا نام تو آپ نے ضرور سنا ہو گا جنہیں بہلول دانا بھی کہا جاتا ہے۔ آپ پانچویں عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے دور (مارچ 766 ء سے مارچ 809ء) میں ایک فلاسفر، ولی کامل اور تارک الدنیا درویش کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ ان کا کوئی گھر یا ٹھکانہ نہیں تھا، شہر میں ننگے پاؤں پھرتے اور جس جگہ تھک جاتے، وہیں ڈیرہ ڈال لیتے۔ بعض لوگوں نے انہیں مجذوب بھی لکھا ہے کیونکہ وہ عشق الٰہی میں گم اور اردگرد کے ماحول سے بے خبر ہوتے تھے۔ بہت کم لوگوں کی طرف التفات کرتے لیکن جب کبھی عوام الناس کی طرف منہ کرتے تو حکمت و دانائی کی بہت ہی عجیب و غریب باتیں کرتے۔ کوفہ میں پیدا ہونے والے بہلول کا اصل نام وہب بن عمرو اور تعلق عرب قبیلے بنو امان سے تھا۔ ان کے والد چھٹے امام جعفر الصادق کے شاگرد تھے، لیکن کچھ وقت ساتویں امام موسیٰ کاظم کی صحبت میں بھی گزارا۔ بہلول کا شمار بھی امام موسیٰ کاظم کے پیرو کاروں میں ہوتا تھا۔ جب خلیفہ ہارون الرشید نے امام موسیٰ کاظم کو قید کرنے کے بعد ان کے تابعین کے خلاف کارروائیاں شروع کیں تو وہب اور کچھ دوسرے لوگوں نے امام سے قید خانے میں ملاقات کر...